اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق ایلاف نے لکھا کہ سعودی بادشاہ آل خلیفہ بادشاہ کو یقین دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ "کسی بھی بیرونی جارحیت کی صورت میں" وہ بحرین کا ساتھ دیں گے۔
الایلاف نے یہ نہیں بتایا کہ اس وقت جو آل سعود نے بحرین پر قبضہ کیا ہوا ہے اس کی وجہ کونسی بیرونی جارحیت تھی؟ اور یہ کہ کیا عوام کے مطالبات بیرونی جارحیت کے زمرے میں آتے ہیں؟
الایلاف نے ریاض میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ عبداللہ آل سعود ایک روزہ سرکاری دورے پر بحرین جارہے ہیں جہاں وہ آل خلیفی بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ، ولیعہد سلمان بن حمد آل خلیفہ، 42 سال سے بحرین پر مسلط وزیراعظم خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ اور اس خاندان کے دیگر افراد سے ملاقات کریں گے۔
اس دورے میں سعودی وزیر داخلہ نائف بن عبدالعزیز آل سعود، وزیر خارجہ سعود بن فیصل بن عبدالعزیز آل سعود، اور حال ہی میں ماسکو میں صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کرنے والے سعودی انٹیلی جنس چیف مقرن بن عبدالعزیز آل سعود سمیت آل سعود خاندان کے کئی دیگر افراد بھی عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کا ساتھ دیں گے۔
یاد رہے کہ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آل سعود کے بادشاہ نے بحرین پر جارحیت کی مخالفت کی تھی لیکن ولیعہدی کے دعویدار سعودی وزیر داخلہ نائف بن عبدالعزیز آل سعود نے یہ فیصلہ ان پر مسلط کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
24 اپریل 2011 - 19:30
News ID: 238345
آل سعود سے وابستہ ویب سائٹ "الایلاف" نے لکھا ہے کہ آل سعود کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود عنقریب بحرین جاکر آل خلیفی حکومت کو اپنی حمایت کی یقین دہانی کرانا چاہتے ہیں۔